7 اشعار

دل والو کیوں دل سی دولت یوں بیکار لٹاتے ہو

Dil walo kyun dil si daulat yun bekar lutate ho

دل والو کیوں دل سی دولت یوں بیکار لٹاتے ہو

«دل والو کیوں دل سی دولت یوں بیکار لٹاتے ہو» حبیب جالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 4 سیکنڈ ہے۔

دل والو کیوں دل سی دولت یوں بیکار لٹاتے ہوکیوں اس اندھیاری بستی میں پیار کی جوت جگاتے ہو

تم ایسا نادان جہاں میں کوئی نہیں ہے کوئی نہیںپھر ان گلیوں میں جاتے ہو پگ پگ ٹھوکر کھاتے ہو

سندر کلیو کومل پھولو یہ تو بتاؤ یہ تو کہوآخر تم میں کیا جادو ہے کیوں من میں بس جاتے ہو

یہ موسم رم جھم کا موسم یہ برکھا یہ مست فضاایسے میں آؤ تو جانیں ایسے میں کب آتے ہو

ہم سے روٹھ کے جانے والو اتنا بھید بتا جاؤکیوں نت راتو کو سپنوں میں آتے ہو من جاتے ہو

چاند ستاروں کے جھرمٹ میں پھولوں کی مسکاہٹ میںتم چھپ چھپ کر ہنستے ہو تم روپ کا مان بڑھاتے ہو

چلتے پھرتے روشن رستے تاریکی میں ڈوب گئےسو جاؤ اب جالبؔ تم بھی کیوں آنکھیں سلگاتے ہو

— حبیب جالب