7 اشعار

دشمنوں نے جو دشمنی کی ہے

Dushmanon ne jo dushmani ki hai

دشمنوں نے جو دشمنی کی ہے

«دشمنوں نے جو دشمنی کی ہے» حبیب جالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 37 سیکنڈ ہے۔

دشمنوں نے جو دشمنی کی ہےدوستوں نے بھی کیا کمی کی ہے

خامشی پر ہیں لوگ زیر عتاباور ہم نے تو بات بھی کی ہے

مطمئن ہے ضمیر تو اپنابات ساری ضمیر ہی کی ہے

اپنی تو داستاں ہے بس اتنیغم اٹھائے ہیں شاعری کی ہے

اب نظر میں نہیں ہے ایک ہی پھولفکر ہم کو کلی کلی کی ہے

پا سکیں گے نہ عمر بھر جس کوجستجو آج بھی اسی کی ہے

جب مہ و مہر بجھ گئے جالبؔہم نے اشکوں سے روشنی کی ہے

— حبیب جالب