5 اشعار

فیضؔ اور فیضؔ کا غم بھولنے والا ہے کہیں

Faiz aur Faiz ka gham bhoolne wala hai kahin

فیضؔ اور فیضؔ کا غم بھولنے والا ہے کہیں

«فیضؔ اور فیضؔ کا غم بھولنے والا ہے کہیں» حبیب جالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 37 سیکنڈ ہے۔

فیضؔ اور فیضؔ کا غم بھولنے والا ہے کہیںموت یہ تیرا ستم بھولنے والا ہے کہیں

ہم سے جس وقت نے وہ شاہ سخن چھین لیاہم کو وہ وقت الم بھولنے والا ہے کہیں

ترے اشک اور بھی چمکائیں گی یادیں اس کیہم کو وہ دیدۂ نم بھولنے والا ہے کہیں

کبھی زنداں میں کبھی دور وطن سے اے دوستجو کیا اس نے رقم بھولنے والا ہے کہیں

آخری بار اسے دیکھ نہ پائے جالبؔیہ مقدر کا ستم بھولنے والا ہے کہیں

— حبیب جالب