6 اشعار

اک شخص با ضمیر مرا یار مصحفیؔ

Ik shakhs ba zameer mera yaar Mus'hafi

اک شخص با ضمیر مرا یار مصحفیؔ

«اک شخص با ضمیر مرا یار مصحفیؔ» حبیب جالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 53 سیکنڈ ہے۔

اک شخص با ضمیر مرا یار مصحفیؔمیری طرح وفا کا پرستار مصحفیؔ

رہتا تھا کج کلاہ امیروں کے درمیاںیکسر لئے ہوئے مرا کردار مصحفیؔ

دیتے ہیں داد غیر کو کب اہل لکھنؤکب داد کا تھا ان سے طلب گار مصحفیؔ

نا قدریٔ جہاں سے کئی بار آ کے تنگاک عمر شعر سے رہا بیزار مصحفیؔ

دربار میں تھا بار کہاں اس غریب کوبرسوں مثال میرؔ پھرا خوار مصحفیؔ

میں نے بھی اس گلی میں گزاری ہے رو کے عمرملتا ہے اس گلی میں کسے پیار مصحفیؔ

— حبیب جالب