5 اشعار

اس شہر خرابی میں غم عشق کے مارے

Is shehr-e-kharabi mein gham-e-ishq ke mare

اس شہر خرابی میں غم عشق کے مارے

«اس شہر خرابی میں غم عشق کے مارے» حبیب جالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 33 سیکنڈ ہے۔

اس شہر خرابی میں غم عشق کے مارےزندہ ہیں یہی بات بڑی بات ہے پیارے

یہ ہنستا ہوا چاند یہ پر نور ستارےتابندہ و پایندہ ہیں ذروں کے سہارے

حسرت ہے کوئی غنچہ ہمیں پیار سے دیکھےارماں ہے کوئی پھول ہمیں دل سے پکارے

ہر صبح مری صبح پہ روتی رہی شبنمہر رات مری رات پہ ہنستے رہے تارے

کچھ اور بھی ہیں کام ہمیں اے غم جاناںکب تک کوئی الجھی ہوئی زلفوں کو سنوارے

— حبیب جالب