7 اشعار

اس رعونت سے وہ جیتے ہیں کہ مرنا ہی نہیں

Is ra'oonat se woh jeete hain ke marna hi nahin

اس رعونت سے وہ جیتے ہیں کہ مرنا ہی نہیں

«اس رعونت سے وہ جیتے ہیں کہ مرنا ہی نہیں» حبیب جالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 7 سیکنڈ ہے۔

اس رعونت سے وہ جیتے ہیں کہ مرنا ہی نہیںتخت پر بیٹھے ہیں یوں جیسے اترنا ہی نہیں

یوں مہ و انجم کی وادی میں اڑے پھرتے ہیں وہخاک کے ذروں پہ جیسے پاؤں دھرنا ہی نہیں

ان کا دعویٰ ہے کہ سورج بھی انہی کا ہے غلامشب جو ہم پر آئی ہے اس کو گزرنا ہی نہیں

کیا علاج اس کا اگر ہو مدعا ان کا یہیاہتمام رنگ و بو گلشن میں کرنا ہی نہیں

ظلم سے ہیں برسر پیکار آزادی پسندان پہاڑوں میں جہاں پر کوئی جھرنا ہی نہیں

دل بھی ان کے ہیں سیہ خوراک زنداں کی طرحان سے اپنا غم بیاں اب ہم کو کرنا ہی نہیں

انتہا کر لیں ستم کی لوگ ابھی ہیں خواب میںجاگ اٹھے جب لوگ تو ان کو ٹھہرنا ہی نہیں

— حبیب جالب