6 اشعار

وہی حالات ہیں فقیروں کے

Wohi halaat hain faqiro'n ke

وہی حالات ہیں فقیروں کے

«وہی حالات ہیں فقیروں کے» حبیب جالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 34 سیکنڈ ہے۔

وہی حالات ہیں فقیروں کےدن پھرے ہیں فقط وزیروں کے

اپنا حلقہ ہے حلقۂ زنجیراور حلقے ہیں سب امیروں کے

ہر بلاول ہے دیس کا مقروضپاؤں ننگے ہیں بے نظیروں کے

وہی اہل وفا کی صورت حالوارے نیارے ہیں بے ضمیروں کے

سازشیں ہیں وہی خلاف عواممشورے ہیں وہی مشیروں کے

بیڑیاں سامراج کی ہیں وہیوہی دن رات ہیں اسیروں کے

— حبیب جالب