7 اشعار

جیون مجھ سے میں جیون سے شرماتا ہوں

Jeevan mujh se main jeevan se sharmata hoon

جیون مجھ سے میں جیون سے شرماتا ہوں

«جیون مجھ سے میں جیون سے شرماتا ہوں» حبیب جالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 51 سیکنڈ ہے۔

جیون مجھ سے میں جیون سے شرماتا ہوںمجھ سے آگے جانے والو میں آتا ہوں

جن کی یادوں سے روشن ہیں میری آنکھیںدل کہتا ہے ان کو بھی میں یاد آتا ہوں

سر سے سانسوں کا ناتا ہے توڑوں کیسےتم جلتے ہو کیوں جیتا ہوں کیوں گاتا ہوں

تم اپنے دامن میں ستارے بیٹھ کر ٹانکواور میں نئے برن لفظوں کو پہناتا ہوں

جن خوابوں کو دیکھ کے میں نے جینا سیکھاان کے آگے ہر دولت کو ٹھکراتا ہوں

زہر اگلتے ہیں جب مل کر دنیا والےمیٹھے بولوں کی وادی میں کھو جاتا ہوں

جالبؔ میرے شعر سمجھ میں آ جاتے ہیںاسی لیے کم رتبہ شاعر کہلاتا ہوں

— حبیب جالب