8 اشعار

کبھی تو مہرباں ہو کر بلا لیں

Kabhi to mehrbaan ho kar bula lein

کبھی تو مہرباں ہو کر بلا لیں

«کبھی تو مہرباں ہو کر بلا لیں» حبیب جالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 51 سیکنڈ ہے۔

کبھی تو مہرباں ہو کر بلا لیںیہ مہوش ہم فقیروں کی دعا لیں

نہ جانے پھر یہ رت آئے نہ آئےجواں پھولوں کی کچھ خوشبو چرا لیں

بہت روئے زمانے کے لیے ہمذرا اپنے لیے آنسو بہا لیں

ہم ان کو بھولنے والے نہیں ہیںسمجھتے ہیں غم دوراں کی چالیں

ہماری بھی سنبھل جائے گی حالتوہ پہلے اپنی زلفیں تو سنبھالیں

نکلنے کو ہے وہ مہتاب گھر سےستاروں سے کہو نظریں جھکا لیں

ہم اپنے راستے پر چل رہے ہیںجناب شیخ اپنا راستہ لیں

زمانہ تو یوں ہی روٹھا رہے گاچلو جالبؔ انہیں چل کر منا لیں

— حبیب جالب