6 اشعار

کہیں آہ بن کے لب پر ترا نام آ نہ جائے

Kahin aah ban ke lab par tera naam aa na jaaye

کہیں آہ بن کے لب پر ترا نام آ نہ جائے

«کہیں آہ بن کے لب پر ترا نام آ نہ جائے» حبیب جالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 51 سیکنڈ ہے۔

کہیں آہ بن کے لب پر ترا نام آ نہ جائےتجھے بے وفا کہوں میں وہ مقام آ نہ جائے

ذرا زلف کو سنبھالو مرا دل دھڑک رہا ہےکوئی اور طائر دل تہہ دام آ نہ جائے

جسے سن کے ٹوٹ جائے مرا آرزو بھرا دلتری انجمن سے مجھ کو وہ پیام آ نہ جائے

وہ جو منزلوں پہ لا کر کسی ہم سفر کو لوٹیںانہیں رہزنوں میں تیرا کہیں نام آ نہ جائے

اسی فکر میں ہیں غلطاں یہ نظام زر کے بندےجو تمام زندگی ہے وہ نظام آ نہ جائے

یہ مہ و نجوم ہنس لیں مرے آنسوؤں پہ جالبؔمرا ماہتاب جب تک لب بام آ نہ جائے

— حبیب جالب