7 اشعار

کم پرانا بہت نیا تھا فراق

Kam purana bahut naya tha Firaaq

کم پرانا بہت نیا تھا فراق

«کم پرانا بہت نیا تھا فراق» حبیب جالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 42 سیکنڈ ہے۔

کم پرانا بہت نیا تھا فراقاک عجب رمز آشنا تھا فراق

دور وہ کب ہوا نگاہوں سےدھڑکنوں میں بسا ہوا ہے فراق

شام غم کے سلگتے صحرا میںاک امنڈتی ہوئی گھٹا تھا فراق

امن تھا پیار تھا محبت تھارنگ تھا نور تھا نوا تھا فراق

فاصلے نفرتوں کے مٹ جائیںپیار ہی پیار سوچتا تھا فراق

ہم سے رنج و الم کے ماروں کوکس محبت سے دیکھتا تھا فراق

عشق انسانیت سے تھا اس کوہر تعصب سے ماورا تھا فراق

— حبیب جالب