6 اشعار

کون بتائے کون سجھائے کون سے دیس سدھار گئے

Kaun bataye kaun sujaye kaun se des sudhaar gaye

کون بتائے کون سجھائے کون سے دیس سدھار گئے

«کون بتائے کون سجھائے کون سے دیس سدھار گئے» حبیب جالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 3 سیکنڈ ہے۔

کون بتائے کون سجھائے کون سے دیس سدھار گئےان کا رستہ تکتے تکتے نین ہمارے ہار گئے

کانٹوں کے دکھ سہنے میں تسکین بھی تھی آرام بھی تھاہنسنے والے بھولے بھالے پھول چمن کے مار گئے

ایک لگن کی بات ہے جیون ایک لگن ہی جیون ہےپوچھ نہ کیا کھویا کیا پایا کیا جیتے کیا ہار گئے

آنے والی برکھا دیکھیں کیا دکھلائے آنکھوں کویہ برکھا برساتے دن تو بن پریتم بیکار گئے

جب بھی لوٹے پیار سے لوٹے پھول نہ پا کر گلشن میںبھونرے امرت رس کی دھن میں پل پل سو سو بار گئے

ہم سے پوچھو ساحل والو کیا بیتی دکھیاروں پرکھیون ہارے بیچ بھنور میں چھوڑ کے جب اس پار گئے

— حبیب جالب