5 اشعار

کچھ لوگ خیالوں سے چلے جائیں تو سوئیں

Kuch log khayalon se chale jaayen to soein

کچھ لوگ خیالوں سے چلے جائیں تو سوئیں

«کچھ لوگ خیالوں سے چلے جائیں تو سوئیں» حبیب جالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 35 سیکنڈ ہے۔

کچھ لوگ خیالوں سے چلے جائیں تو سوئیںبیتے ہوئے دن رات نہ یاد آئیں تو سوئیں

چہرے جو کبھی ہم کو دکھائی نہیں دیں گےآ آ کے تصور میں نہ تڑپائیں تو سوئیں

برسات کی رت کے وہ طرب ریز مناظرسینے میں نہ اک آگ سی بھڑکائیں تو سوئیں

صبحوں کے مقدر کو جگاتے ہوئے مکھڑےآنچل جو نگاہوں میں نہ لہرائیں تو سوئیں

محسوس یہ ہوتا ہے ابھی جاگ رہے ہیںلاہور کے سب یار بھی سو جائیں تو سوئیں

— حبیب جالب