7 اشعار

لوگ گیتوں کا نگر یاد آیا

Log geeto'n ka nagar yaad aaya

لوگ گیتوں کا نگر یاد آیا

«لوگ گیتوں کا نگر یاد آیا» حبیب جالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 44 سیکنڈ ہے۔

لوگ گیتوں کا نگر یاد آیاآج پردیس میں گھر یاد آیا

جب چلے آئے چمن زار سے ہمالتفات گل تر یاد آیا

تیری بیگانہ نگاہی سر شامیہ ستم تا بہ سحر یاد آیا

ہم زمانے کا ستم بھول گئےجب ترا لطف نظر یاد آیا

تو بھی مسرور تھا اس شب سر بزماپنے شعروں کا اثر یاد آیا

پھر ہوا درد تمنا بیدارپھر دل‌ خاک‌ بسر یاد آیا

ہم جسے بھول چکے تھے جالبؔپھر وہی راہ گزر یاد آیا

— حبیب جالب