7 اشعار

ذرے ہی سہی کوہ سے ٹکرا تو گئے ہم

Zarre hi sahi koh se takra to gaye hum

ذرے ہی سہی کوہ سے ٹکرا تو گئے ہم

«ذرے ہی سہی کوہ سے ٹکرا تو گئے ہم» حبیب جالب کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «دل پر جو زخم ہیں وہ دکھائیں کسی کو کیا (حبیب جالب)» میں 26 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 51 سیکنڈ ہے۔

ذرے ہی سہی کوہ سے ٹکرا تو گئے ہمدل لے کے سر عرصۂ غم آ تو گئے ہم

اب نام رہے یا نہ رہے عشق میں اپناروداد وفا دار پہ دہرا تو گئے ہم

کہتے تھے جو اب کوئی نہیں جاں سے گزرتالو جاں سے گزر کر انہیں جھٹلا تو گئے ہم

جاں اپنی گنوا کر کبھی گھر اپنا جلا کردل ان کا ہر اک طور سے بہلا تو گئے ہم

کچھ اور ہی عالم تھا پس چہرۂ یاراںرہتا جو یونہی راز اسے پا تو گئے ہم

اب سوچ رہے ہیں کہ یہ ممکن ہی نہیں ہےپھر ان سے نہ ملنے کی قسم کھا تو گئے ہم

اٹھیں کہ نہ اٹھیں یہ رضا ان کی ہے جالبؔلوگوں کو سر دار نظر آ تو گئے ہم

— حبیب جالب

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں