9 اشعار

نہ ڈگمگائے کبھی ہم وفا کے رستے میں

Na Dagmagaye kabhi hum wafa ke raste mein

نہ ڈگمگائے کبھی ہم وفا کے رستے میں

«نہ ڈگمگائے کبھی ہم وفا کے رستے میں» حبیب جالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 53 سیکنڈ ہے۔

نہ ڈگمگائے کبھی ہم وفا کے رستے میںچراغ ہم نے جلائے ہوا کے رستے میں

کسے لگائے گلے اور کہاں کہاں ٹھہرےہزار غنچہ و گل ہیں صبا کے رستے میں

خدا کا نام کوئی لے تو چونک اٹھتے ہیںملے ہیں ہم کو وہ رہبر خدا کے رستے میں

کہیں سلاسل تسبیح اور کہیں زناربچھے ہیں دام بہت مدعا کے رستے میں

ابھی وہ منزل فکر و نظر نہیں آئیہے آدمی ابھی جرم و سزا کے رستے میں

ہیں آج بھی وہی دار و رسن وہی زنداںہر اک نگاہ رموز آشنا کے رستے میں

یہ نفرتوں کی فصیلیں جہالتوں کے حصارنہ رہ سکیں گے ہماری صدا کے رستے میں

مٹا سکے نہ کوئی سیل انقلاب جنہیںوہ نقش چھوڑے ہیں ہم نے وفا کے رستے میں

زمانہ ایک سا جالبؔ سدا نہیں رہتاچلیں گے ہم بھی کبھی سر اٹھا کے رستے میں

— حبیب جالب