7 اشعار

پھر دل سے آ رہی ہے صدا اس گلی میں چل

Phir dil se aa rahi hai sada is gali mein chal

پھر دل سے آ رہی ہے صدا اس گلی میں چل

«پھر دل سے آ رہی ہے صدا اس گلی میں چل» حبیب جالب کا کلام ہے، جسے خواجہ اشرف نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «دل پر جو زخم ہیں وہ دکھائیں کسی کو کیا (حبیب جالب)» میں 26 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 1 سیکنڈ ہے۔

پھر دل سے آ رہی ہے صدا اس گلی میں چلشاید ملے غزل کا پتا اس گلی میں چل

کب سے نہیں ہوا ہے کوئی شعر کام کایہ شعر کی نہیں ہے فضا اس گلی میں چل

وہ بام و در وہ لوگ وہ رسوائیوں کے زخمہیں سب کے سب عزیز جدا اس گلی میں چل

اس پھول کے بغیر بہت جی اداس ہےمجھ کو بھی ساتھ لے کے صبا اس گلی میں چل

دنیا تو چاہتی ہے یوں ہی فاصلے رہیںدنیا کے مشوروں پہ نہ جا اس گلی میں چل

بے نور و بے اثر ہے یہاں کی صدائے سازتھا اس سکوت میں بھی مزا اس گلی میں چل

جالبؔ پکارتی ہیں وہ شعلہ نوائیاںیہ سرد رت یہ سرد ہوا اس گلی میں چل

— حبیب جالب

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں