6 اشعار

شعر ہوتا ہے اب مہینوں میں

Sher hota hai ab maheenon mein

شعر ہوتا ہے اب مہینوں میں

«شعر ہوتا ہے اب مہینوں میں» حبیب جالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 29 سیکنڈ ہے۔

شعر ہوتا ہے اب مہینوں میںزندگی ڈھل گئی مشینوں میں

پیار کی روشنی نہیں ملتیان مکانوں میں ان مکینوں میں

دیکھ کر دوستی کا ہاتھ بڑھاؤسانپ ہوتے ہیں آستینوں میں

قہر کی آنکھ سے نہ دیکھ ان کودل دھڑکتے ہیں آبگینوں میں

آسمانوں کی خیر ہو یا رباک نیا عزم ہے زمینوں میں

وہ محبت نہیں رہی جالبؔہم صفیروں میں ہم نشینوں میں

— حبیب جالب