7 اشعار

ترے ماتھے پہ جب تک بل رہا ہے

Tere maathe pe jab tak bal raha hai

ترے ماتھے پہ جب تک بل رہا ہے

«ترے ماتھے پہ جب تک بل رہا ہے» حبیب جالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 2 سیکنڈ ہے۔

ترے ماتھے پہ جب تک بل رہا ہےاجالا آنکھ سے اوجھل رہا ہے

سماتے کیا نظر میں چاند تارےتصور میں ترا آنچل رہا ہے

تری شان تغافل کو خبر کیاکوئی تیرے لیے بے کل رہا ہے

شکایت ہے غم دوراں کو مجھ سےکہ دل میں کیوں ترا غم پل رہا ہے

تعجب ہے ستم کی آندھیوں میںچراغ دل ابھی تک جل رہا ہے

لہو روئیں گی مغرب کی فضائیںبڑی تیزی سے سورج ڈھل رہا ہے

زمانہ تھک گیا جالبؔ ہی تنہاوفا کے راستے پر چل رہا ہے

— حبیب جالب