5 اشعار

تم سے پہلے وہ جو اک شخص یہاں تخت نشیں تھا

Tum se pehle woh jo ik shakhs yahan takht nasheen tha

تم سے پہلے وہ جو اک شخص یہاں تخت نشیں تھا

«تم سے پہلے وہ جو اک شخص یہاں تخت نشیں تھا» حبیب جالب کا کلام ہے، جسے طارق نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «دل پر جو زخم ہیں وہ دکھائیں کسی کو کیا (حبیب جالب)» میں 26 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 47 سیکنڈ ہے۔

تم سے پہلے وہ جو اک شخص یہاں تخت نشیں تھااس کو بھی اپنے خدا ہونے پہ اتنا ہی یقیں تھا

کوئی ٹھہرا ہو جو لوگوں کے مقابل تو بتاؤوہ کہاں ہیں کہ جنہیں ناز بہت اپنے تئیں تھا

آج سوئے ہیں تہ خاک نہ جانے یہاں کتنےکوئی شعلہ کوئی شبنم کوئی مہتاب جبیں تھا

اب وہ پھرتے ہیں اسی شہر میں تنہا لیے دل کواک زمانے میں مزاج ان کا سر عرش بریں تھا

چھوڑنا گھر کا ہمیں یاد ہے جالبؔ نہیں بھولےتھا وطن ذہن میں اپنے کوئی زنداں تو نہیں تھا

— حبیب جالب

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں