7 اشعار

وہ دیکھنے مجھے آنا تو چاہتا ہوگا

Woh dekhne mujhe aana to chahta hoga

وہ دیکھنے مجھے آنا تو چاہتا ہوگا

«وہ دیکھنے مجھے آنا تو چاہتا ہوگا» حبیب جالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 47 سیکنڈ ہے۔

وہ دیکھنے مجھے آنا تو چاہتا ہوگامگر زمانے کی باتوں سے ڈر گیا ہوگا

اسے تھا شوق بہت مجھ کو اچھا رکھنے کایہ شوق اوروں کو شاید برا لگا ہوگا

کبھی نہ حد ادب سے بڑھے تھے دیدہ و دلوہ مجھ سے کس لیے کسی بات پر خفا ہوگا

مجھے گمان ہے یہ بھی یقین کی حد تککسی سے بھی نہ وہ میری طرح ملا ہوگا

کبھی کبھی تو ستاروں کی چھاؤں میں وہ بھیمرے خیال میں کچھ دیر جاگتا ہوگا

وہ اس کا سادہ و معصوم والہانہ پنکسی بھی جگ میں کوئی دیوتا بھی کیا ہوگا

نہیں وہ آیا تو جالبؔ گلہ نہ کر اس کانہ جانے کیا اسے درپیش مسئلہ ہوگا

— حبیب جالب