4 اشعار

وطن کو کچھ نہیں خطرہ نظام زر ہے خطرے میں

Watan ko kuch nahin khatra nizam-e-zar hai khatre mein

وطن کو کچھ نہیں خطرہ نظام زر ہے خطرے میں

«وطن کو کچھ نہیں خطرہ نظام زر ہے خطرے میں» حبیب جالب کا کلام ہے، جسے خواجہ اشرف نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «دل پر جو زخم ہیں وہ دکھائیں کسی کو کیا (حبیب جالب)» میں 26 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 39 سیکنڈ ہے۔

وطن کو کچھ نہیں خطرہ نظام زر ہے خطرے میںحقیقت میں جو رہزن ہے وہی رہبر ہے خطرے میں

جو بیٹھا ہے صف ماتم بچھائے مرگ ظلمت پروہ نوحہ گر ہے خطرے میں وہ دانشور ہے خطرے میں

اگر تشویش لاحق ہے تو سلطانوں کو لاحق ہےنہ تیرا گھر ہے خطرے میں نہ میرا گھر ہے خطرے میں

جہاں اقبالؔ بھی نذر خط تنسیخ ہو جالبؔوہاں تجھ کو شکایت ہے ترا جوہر ہے خطرے میں

— حبیب جالب

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں