3 اشعار

یہ جو شب کے ایوانوں میں اک ہلچل اک حشر بپا ہے

Yeh jo shab ke aiwanon mein ik halchal ik hashra bapa hai

یہ جو شب کے ایوانوں میں اک ہلچل اک حشر بپا ہے

«یہ جو شب کے ایوانوں میں اک ہلچل اک حشر بپا ہے» حبیب جالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 30 سیکنڈ ہے۔

یہ جو شب کے ایوانوں میں اک ہلچل اک حشر بپا ہےیہ جو اندھیرا سمٹ رہا ہے یہ جو اجالا پھیل رہا ہے

یہ جو ہر دکھ سہنے والا دکھ کا مداوا جان گیا ہےمظلوموں مجبوروں کا غم یہ جو مرے شعروں میں ڈھلا ہے

یہ جو مہک گلشن گلشن ہے یہ جو چمک عالم عالم ہےمارکسزم ہے مارکسزم ہے مارکسزم ہے مارکسزم ہے

— حبیب جالب