5 اشعار

یہ سوچ کر نہ مائل فریاد ہم ہوئے

Yeh soch kar na maayil-e-faryaad hum hue

یہ سوچ کر نہ مائل فریاد ہم ہوئے

«یہ سوچ کر نہ مائل فریاد ہم ہوئے» حبیب جالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 40 سیکنڈ ہے۔

یہ سوچ کر نہ مائل فریاد ہم ہوئےآباد کب ہوئے تھے کہ برباد ہم ہوئے

ہوتا ہے شاد کام یہاں کون با ضمیرناشاد ہم ہوئے تو بہت شاد ہم ہوئے

پرویز کے جلال سے ٹکرائے ہم بھی ہیںیہ اور بات ہے کہ نہ فرہاد ہم ہوئے

کچھ ایسے بھا گئے ہمیں دنیا کے درد و غمکوئے بتاں میں بھولی ہوئی یاد ہم ہوئے

جالبؔ تمام عمر ہمیں یہ گماں رہااس زلف کے خیال سے آزاد ہم ہوئے

— حبیب جالب