9 اشعار

یوں وہ ظلمت سے رہا دست و گریباں یارو

Yoon woh zulmat se raha dast-o-gareeban yaaro

یوں وہ ظلمت سے رہا دست و گریباں یارو

«یوں وہ ظلمت سے رہا دست و گریباں یارو» حبیب جالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 57 سیکنڈ ہے۔

یوں وہ ظلمت سے رہا دست و گریباں یارواس سے لرزاں تھے بہت شب کے نگہباں یارو

اس نے ہر گام دیا حوصلۂ تازہ ہمیںوہ نہ اک پل بھی رہا ہم سے گریزاں یارو

اس نے مانی نہ کبھی تیرگیٔ شب سے شکستدل اندھیروں میں رہا اس کا فروزاں یارو

اس کو ہر حال میں جینے کی ادا آتی تھیوہ نہ حالات سے ہوتا تھا پریشاں یارو

اس نے باطل سے نہ تا زیست کیا سمجھوتہدہر میں اس سا کہاں صاحب ایماں یارو

اس کو تھی کشمکش دیر و حرم سے نفرتاس سا ہندو نہ کوئی اس سا مسلماں یارو

اس نے سلطانیٔ جمہور کے نغمے لکھےروح شاہوں کی رہی اس سے پریشاں یارو

اپنے اشعار کی شمعوں سے اجالا کر کےکر گیا شب کا سفر کتنا وہ آساں یارو

اس کے گیتوں سے زمانے کو سنواریں یاروروح ساحرؔ کو اگر کرنا ہے شاداں یارو

— حبیب جالب