9 اشعار

آنے والے جانے والے ہر زمانے کے لیے

Aane wale jaane wale har zamane ke liye

آنے والے جانے والے ہر زمانے کے لیے

«آنے والے جانے والے ہر زمانے کے لیے» حفیظ جالندھری کا کلام ہے، جسے عون کبیر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ارادےباندھتاہوں سوچتاہوں توڑدیتاہوں (حفیظ جالندھری)» میں 16 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 17 سیکنڈ ہے۔

آنے والے جانے والے ہر زمانے کے لیےآدمی مزدور ہے راہیں بنانے کے لیے

زندگی فردوس گم گشتہ کو پا سکتی نہیںموت ہی آتی ہے یہ منزل دکھانے کے لیے

میری پیشانی پہ اک سجدہ تو ہے لکھا ہوایہ نہیں معلوم ہے کس آستانے کے لیے

ان کا وعدہ اور مجھے اس پر یقیں اے ہم نشیںاک بہانہ ہے تڑپنے تلملانے کے لیے

جب سے پہرہ ضبط کا ہے آنسوؤں کی فصل پرہو گئیں محتاج آنکھیں دانے دانے کے لیے

آخری امید وقت نزع ان کی دید تھیموت کو بھی مل گیا فقرہ نہ آنے کے لیے

اللہ اللہ دوست کو میری تباہی پر یہ نازسوئے دشمن دیکھتا ہے داد پانے کے لیے

نعمت غم میرا حصہ مجھ کو دے دے اے خداجمع رکھ میری خوشی سارے زمانے کے لیے

نسخۂ ہستی میں عبرت کے سوا کیا تھا حفیظؔسرخیاں کچھ مل گئیں اپنے فسانے کے لیے

— حفیظ جالندھری

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں