10 اشعار

دوستی کا چلن رہا ہی نہیں

Dosti ka chalan raha hi nahin

دوستی کا چلن رہا ہی نہیں

«دوستی کا چلن رہا ہی نہیں» حفیظ جالندھری کا کلام ہے، جسے روح من نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ارادےباندھتاہوں سوچتاہوں توڑدیتاہوں (حفیظ جالندھری)» میں 16 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 4 سیکنڈ ہے۔

دوستی کا چلن رہا ہی نہیںاب زمانے کی وہ ہوا ہی نہیں

سچ تو یہ ہے صنم کدے والودل خدا نے تمہیں دیا ہی نہیں

پلٹ آنے سے ہو گیا ثابتنامہ بر تو وہاں گیا ہی نہیں

حال یہ ہے کہ ہم غریبوں کاحال تم نے کبھی سنا ہی نہیں

کیا چلے زور دشت وحشت کاہم نے دامن کبھی سیا ہی نہیں

غیر بھی ایک دن مریں گے ضروران کے حصے میں کیا قضا ہی نہیں

اس کی صورت کو دیکھتا ہوں میںمیری سیرت وہ دیکھتا ہی نہیں

عشق میرا ہے شہر میں مشہوراور تم نے ابھی سنا ہی نہیں

قصۂ قیس سن کے فرمایاجھوٹ کی کوئی انتہا ہی نہیں

واسطہ کس کا دیں حفیظؔ ان کوان بتوں کا کوئی خدا ہی نہیں

— حفیظ جالندھری

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں