5 اشعار

اے دوست مٹ گیا ہوں فنا ہو گیا ہوں میں

Ai dost miṭ gayā hūñ fanā ho gayā hūñ maiñ

اے دوست مٹ گیا ہوں فنا ہو گیا ہوں میں

«اے دوست مٹ گیا ہوں فنا ہو گیا ہوں میں» حفیظ جالندھری کا کلام ہے، جسے یادرفتگان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ارادےباندھتاہوں سوچتاہوں توڑدیتاہوں (حفیظ جالندھری)» میں 16 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 37 سیکنڈ ہے۔

اے دوست مٹ گیا ہوں فنا ہو گیا ہوں میںاس دور دوستی کی دوا ہو گیا ہوں میں

قائم کیا ہے میں نے عدم کے وجود کودنیا سمجھ رہی ہے فنا ہو گیا ہوں میں

ہمت بلند تھی مگر افتاد دیکھناچپ چاپ آج محو دعا ہو گیا ہوں میں

یہ زندگی فریب مسلسل نہ ہو کہیںشاید اسیر دام بلا ہو گیا ہوں میں

ہاں کیف بے خودی کی وہ ساعت بھی یاد ہےمحسوس کر رہا تھا خدا ہو گیا ہوں میں

— حفیظ جالندھری

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں