6 اشعار

ہے ازل کی اس غلط بخشی پہ حیرانی مجھے

Hai azal ki is ghalat bakhshi pe hairani mujhe

ہے ازل کی اس غلط بخشی پہ حیرانی مجھے

«ہے ازل کی اس غلط بخشی پہ حیرانی مجھے» حفیظ جالندھری کا کلام ہے، جسے صباگل نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ارادےباندھتاہوں سوچتاہوں توڑدیتاہوں (حفیظ جالندھری)» میں 16 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 56 سیکنڈ ہے۔

ہے ازل کی اس غلط بخشی پہ حیرانی مجھےعشق لافانی ملا ہے زندگی فانی مجھے

میں وہ بستی ہوں کہ یاد رفتگاں کے بھیس میںدیکھنے آتی ہے اب میری ہی ویرانی مجھے

تھی یہی تمہید میرے ماتمی انجام کیپھول ہنستے ہیں تو ہوتی ہے پشیمانی مجھے

حسن بے پردہ ہوا جاتا ہے یا رب کیا کروںاب تو کرنی ہی پڑی دل کی نگہبانی مجھے

باندھ کر روز ازل شیرازۂ مرگ و حیاتسونپ دی گویا دو عالم کی پریشانی مجھے

پوچھتا پھرتا تھا داناؤں سے الفت کے رموزیاد اب رہ رہ کے آتی ہے وہ نادانی مجھے

— حفیظ جالندھری

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں