7 اشعار

اک بار پھر وطن میں گیا جا کے آ گیا

Ik bār phir vatan meñ gayā jā ke ā gayā

اک بار پھر وطن میں گیا جا کے آ گیا

«اک بار پھر وطن میں گیا جا کے آ گیا» حفیظ جالندھری کا کلام ہے، جسے سید جینٹلمین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ارادےباندھتاہوں سوچتاہوں توڑدیتاہوں (حفیظ جالندھری)» میں 16 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 57 سیکنڈ ہے۔

اک بار پھر وطن میں گیا جا کے آ گیالخت جگر کو خاک میں دفنا کے آ گیا

ہر ہم سفر پہ خضر کا دھوکا ہوا مجھےآب بقا کی راہ سے کترا کے آ گیا

حور لحد نے چھین لیا تجھ کو اور میںاپنا سا منہ لیے ہوئے شرما کے آ گیا

دل لے گیا مجھے تری تربت پہ بار بارآواز دے کے بیٹھ کے اکتا کے آ گیا

رویا کہ تھا جہیز ترا واجب الادامینہ موتیوں کا قبر پہ برسا کے آ گیا

میری بساط کیا تھی حضور رضائے دوستتنکا سا ایک سامنے دریا کے آ گیا

اب کے بھی راس آئی نہ حب وطن حفیظؔاب کے بھی ایک تیر قضا کھا کے آ گیا

— حفیظ جالندھری

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں