تصور سے کسی کے میں نے کی ہے گفتگو برسوں
کلام: حیدر علی آتش
تصور سے کسی کے میں نے کی ہے گفتگو برسوںرہی ہے ایک تصویر خیالی روبرو برسوں
ہوا مہمان آ کر رات بھر وہ شمع رو برسوںرہا روشن مرے گھر کا چراغ آرزو برسوں
صراحی سرنگوں ہو کر بھرا کرتی ہے پیمانہ حیدر علی آتش
مہمان شاعر: حیدر علی آتش
تصور سے کسی کے میں نے کی ہے گفتگو برسوںرہی ہے ایک تصویر خیالی روبرو برسوں
ہوا مہمان آ کر رات بھر وہ شمع رو برسوںرہا روشن مرے گھر کا چراغ آرزو برسوں
حباب آسا میں دم بھرتا ہوں تیری آشنائی کانہایت غم ہے اس قطرے کو دریا کی جدائی کا
اسیر اے دوست تیرے عاشق و معشوق دونوں ہیںگرفتار آہنی زنجیر کا یہ وہ طلائی کا