7 اشعار

آشنا ہو کر نظر نا آشنا کرنے لگے

Aashna ho kar nazar na aashna karne lage

آشنا ہو کر نظر نا آشنا کرنے لگے

«آشنا ہو کر نظر نا آشنا کرنے لگے» حسرت موہانی کا کلام ہے، جسے رابعہ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے ( حسرت موہانی)» میں 7 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 53 سیکنڈ ہے۔

آشنا ہو کر نظر نا آشنا کرنے لگےہم سے کیا دیکھا کہ تم پاس حیا کرنے لگے

رشک آیا ہے مجھے کیا کیا جب ان کے روبرومدعیٔ بیباک عرض مدعا کرنے لگے

حلقۂ اغیار میں بھی پا کے ان کو گرم لطفہم لب حسرت سے شور مرحبا کرنے لگے

اور تو کچھ بھی نہ ہم سے اس کے آگے بن پڑاحسن خلق یار کی مدح و ثنا کرنے لگے

دل ربائی کا بھی کچھ کچھ ڈھب انہیں آنے لگابات مطلب کی اشاروں میں ادا کرنے لگے

کون کہتا ہے کہ ہم ہیں مائل ترک وفاآپ ناحق اپنے دل کو بد مزا کرنے لگے

بھول کر حکم خدا یاد بتاں رہنے لگیکیا تمہیں کرنا تھا حسرتؔ آہ کیا کرنے لگے

— حسرت موہانی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں