11 اشعار

عاشقوں سے ناروا ہے ہے وفائی آپ کی

Aashiqon se narawa hai hai wafai aap ki

عاشقوں سے ناروا ہے ہے وفائی آپ کی

«عاشقوں سے ناروا ہے ہے وفائی آپ کی» حسرت موہانی کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے ( حسرت موہانی)» میں 7 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

عاشقوں سے ناروا ہے ہے وفائی آپ کیحد سے بڑھ جائے نہ شان کج ادائی آپ کی

آرزو کے دل پہ آئیں گی نہ کیا کیا آفتیںدر پیے انکار ہے ناآشنائی آپ کی

خوبرو ہیں آپ مانا ہم نے پھر بھی اس قدردیکھیے اچھی نہیں ہے خود ستائی آپ کی

رہ گئی اہل ہوس میں یادگار حسن و عشقناز برداری ہماری دلربائی آپ کی

مجھ سے اکثر یہ کہا کرتا ہے وہ مخمور نازدیکھیے نبھتی ہے کب تک پارسائی آپ کی

اک ہمیں تو کچھ نہیں ہیں آپ کے طاعت گزارتابع فرماں ہوئی ساری خدائی آپ کی

کیسے دیکھے کون دیکھے آپ کا نور جمالجان جب ٹھہری ہوئی ہو رونمائی آپ کی

آپ کو آتا رہا میرے ستانے کا خیالصلح سے اچھی رہی مجھ کو لڑائی آپ کی

برق کا اکثر یہ کہنا یاد آتا ہے مجھےتنکے چنوانے لگی ہم سے جدائی آپ کی

عرض کر کے حال دل کس درجہ ہیں محجوب ہمدیکھ کر غصے میں صورت تمتمائی آپ کی

شاہ جیلاں کے سوا مشکل کشا کے واسطےکون کرتا اور حسرتؔ رہنمائی آپ کی

— حسرت موہانی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں