10 اشعار

چُپ ہیں کیوں آپ، مِرے غم سے جو دِلگیر نہیں

Chup hain kyoon aap, mere gham se jo dilgeer nahin

چُپ ہیں کیوں آپ، مِرے غم سے جو دِلگیر نہیں

«چُپ ہیں کیوں آپ، مِرے غم سے جو دِلگیر نہیں» حسرت موہانی کا کلام ہے، جسے مرزا جواد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے ( حسرت موہانی)» میں 7 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 53 سیکنڈ ہے۔

چُپ ہیں کیوں آپ، مِرے غم سے جو دِلگیر نہیںاب نہ کہیے گا، تِری آہ میں تاثیر نہیں

کیا وہ یُوں ہم سے ہیں راضی، کہ نہیں ہیں راضی!کیا یہ وہ خواب ہے، جس خواب کی تعبیر نہیں

وہ بھی چُپ، ہم بھی ہیں خاموش بہ ہنگامِ وصالکثرتِ شوق بہ اندازۂ تقرِیر نہیں

شوق کو یادِ رُخِ یار نہ ہوگی کافی !کہ یہ قرآن ہے، قرآن کی تفسِیر نہیں

کون کہتا ہے سِیہ خانۂ غم کو بے نُورکیا مِرے دِل میں تِرے حُسن کی تصوِیر نہیں

دِل کو بیچارگیِ جوشِ جنُوں کا ہے خیالورنہ، کُچھ رنج گراں باریِ زنجیر نہیں

ہم جفا سے بھی ہیں راضی، کہ جفا ہے تیریغیر کی طرح، ہَمَیں شِکوۂ تقدِیر نہیں

اُن سے مِلنا بھی خُدا ساز ہُوا ہے اپناکامیابی مِری، شرمندۂ تعبیر نہیں

ہر ادا، قاتلِ سفّاک ہے، اے شوخ تِریکیا ہُوا دستِ نزاکت میں جو شمشِیر نہیں

کون قائِل ہو تِرے صِدقِ طَلَب کا، حسرؔت !محفِلِ یار میں کُچھ بھی تِری توقیر نہیں

— حسرت موہانی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں