9 اشعار

ہجوم بے کسی کی وجہ لطف بیکراں پایا

Hujoom be-kasi ki wajah lutf-e-bekaran paya

ہجوم بے کسی کی وجہ لطف بیکراں پایا

«ہجوم بے کسی کی وجہ لطف بیکراں پایا» حسرت موہانی کا کلام ہے، جسے نور مائیر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے ( حسرت موہانی)» میں 7 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 19 سیکنڈ ہے۔

ہجوم بے کسی کی وجہ لطف بیکراں پایاکہ ہم نے آج اس نا مہرباں کو مہرباں پایا

مگر تھا رنگ بزم یار میں نیرنگ عالم کاکسی کو سرنگوں دیکھا کسی کو شادماں پایا

ستم سمجھے ہوئے تھے ہم تری بے اعتنائی کومگر جب غور سے دیکھا تو اک لطف نہاں پایا

کسے فرصت تمہاری جستجو کے شوق بے حد سےابھی ہم نے کہاں ڈھونڈھا ابھی ہم نے کہاں پایا

نہ سمجھا بانی جور و جفا اس شوخ کو کوئیکہ ہم نے جس کو پایا شکوہ سنج آسماں پایا

نہ پا سکتے کبھی پابند رہ کر قید ہستی میںسو ہم نے بے نشاں ہو کر تجھے او بے نشاں پایا

حقیقت نالۂ دل سے کھلی غم ہائے پنہاں کیسنا سوئے جرس جس نے نشان کارواں پایا

ہنسی عبرت بہت جب رنگ گل کی بے ثباتی نےچمن میں عندلیب سادہ‌ دل کو شادماں پایا

نہ جانے کوئی میری وضع رسوا پر کہ اے حسرتؔکمال عاشقی نے مجھ کو یکتائے زماں پایا

— حسرت موہانی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں