9 اشعار

محروم طرب ہے دل دلگیر ابھی تک

Mahroom tarab hai dil-e-dilgeer abhi tak

محروم طرب ہے دل دلگیر ابھی تک

«محروم طرب ہے دل دلگیر ابھی تک» حسرت موہانی کا کلام ہے، جسے یادرفتگان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے ( حسرت موہانی)» میں 7 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 3 سیکنڈ ہے۔

محروم طرب ہے دل دلگیر ابھی تکباقی ہے ترے عشق کی تاثیر ابھی تک

وصل اس بت بد خو کا میسر نہیں ہوتاوابستۂ تقدیر ہے تدبیر ابھی تک

اک بار سنی تھی سو مرے دل میں ہے موجوداے جان تمنا تری تقریر ابھی تک

سیکھی تھی جو آغاز محبت میں قلم نےباقی ہے وہ رنگینئ تحریر ابھی تک

اس درجہ نہ بیتاب ہو اے شوق شہادتہے میان میں اس شوخ کی شمشیر ابھی تک

کہنے کو تو میں بھول گیا ہوں مگر اے یارہے خانۂ دل میں تری تصویر ابھی تک

بھولی نہیں دل کو تری دزدیدہ نگاہیپہلو میں ہے کچھ کچھ خلش تیر ابھی تک

تھے حق پہ وہ بے شک کہ نہ ہوتے تو نہ ہوتادنیا میں بپا ماتم شبیرؔ ابھی تک

گزرے بہت استاد مگر رنگ اثر میںبے مثل ہے حسرتؔ سخن میرؔ ابھی تک

— حسرت موہانی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں