7 اشعار

نگاہ یار جسے آشنائے راز کرے

Nigah-e-yaar jise aashnaye raaz kare

نگاہ یار جسے آشنائے راز کرے

«نگاہ یار جسے آشنائے راز کرے» حسرت موہانی کا کلام ہے، جسے نین سکھ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے ( حسرت موہانی)» میں 7 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 46 سیکنڈ ہے۔

نگاہ یار جسے آشنائے راز کرےوہ اپنی خوبی قسمت پہ کیوں نہ ناز کرے

دلوں کو فکر دوعالم سے کر دیا آزادترے جنوں کا خدا سلسلہ دراز کرے

خرد کا نام جنوں پڑ گیا جنوں کا خردجو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے

ترے ستم سے میں خوش ہوں کہ غالباً یوں بھیمجھے وہ شامل ارباب امتیاز کرے

غم جہاں سے جسے ہو فراغ کی خواہشوہ ان کے درد محبت سے ساز باز کرے

امیدوار ہیں ہر سمت عاشقوں کے گروہتری نگاہ کو اللہ دل نواز کرے

ترے کرم کا سزاوار تو نہیں حسرتؔاب آگے تیری خوشی ہے جو سرفراز کرے

— حسرت موہانی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں