اگلی گلی میں رہتا ہے اور ملنے تک نہیں آتا ہے
کلام: جمیل الدین عالی
اگلی گلی میں رہتا ہے اور ملنے تک نہیں آتا ہےکہتا ہے تکلف کیا کرنا ہم تم میں تو پیار کا ناتا ہے
کہتا ہے زیادہ ملنے سے وعدوں کی خلش بڑھ جائے گیکچھ وعدے وقت پہ بھی چھوڑو دیکھو وہ کیا دکھلاتا ہے