6 اشعار

کسی کو ناز‌ خرد ہے کسی کو فخر جنوں

Kisi ko naaz-e-khirad hai kisi ko fakhr-e-junoon

کسی کو ناز‌ خرد ہے کسی کو فخر جنوں

«کسی کو ناز‌ خرد ہے کسی کو فخر جنوں» جمیل الدین عالی کا کلام ہے، جسے ملک افراسیاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «تیرے خیال کے دیوارودر بناتے ہیں جمیل الدین عالی» میں 8 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 45 سیکنڈ ہے۔

کسی کو ناز‌ خرد ہے کسی کو فخر جنوںمیں اپنے دل کا فسانہ کہوں تو کس سے کہوں

نہ اضطراب میں لذت نہ آرزوئے سکوںکوئی کہے کہ میں اب کیا فریب کھا کے جیوں

رہے گی پھر نہ یہ کیفیت طلب اے دلچھپے ہوئے ہیں تو ہے اشتیاق دید فزوں

ہے آج دل پہ گماں حسن نا شناسی کاجلا چکے جب اسے جلو‌ ہائے گونا گوں

ہو اب بھی فکر میں مشکل تو یاد آتے ہیںوہ ہر ادا میں تغزل کے سیکڑوں مضموں

تم ایسے کون خدا ہو کہ عمر بھر تم سےامید بھی نہ رکھوں ناامید بھی نہ رہوں

— جمیل الدین عالی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں