بیان درد محبت جو بار بار نہ ہو
کلام: جمیل الدین عالی
بیان درد محبت جو بار بار نہ ہوکوئی نقاب ترے رخ کی پردہ دار نہ ہو
سلام شوق کی جرأت سے دل لرزتا ہےکہیں مزاج گرامی پہ یہ بھی بار نہ ہو
تیرے خیال کے دیوارودر بناتے ہیں جمیل الدین عالی
مہمان شاعر: جمیل الدین عالی
بیان درد محبت جو بار بار نہ ہوکوئی نقاب ترے رخ کی پردہ دار نہ ہو
سلام شوق کی جرأت سے دل لرزتا ہےکہیں مزاج گرامی پہ یہ بھی بار نہ ہو
کسی کو ناز خرد ہے کسی کو فخر جنوںمیں اپنے دل کا فسانہ کہوں تو کس سے کہوں
نہ اضطراب میں لذت نہ آرزوئے سکوںکوئی کہے کہ میں اب کیا فریب کھا کے جیوں