تیرے خیال کے دیوار و در بناتے ہیں
کلام: جمیل الدین عالی
تیرے خیال کے دیوار و در بناتے ہیںہم اپنے گھر میں بھی تیرا ہی گھر بناتے ہیں
بجائے یوم ملامت رکھا ہے جشن مرامرے بھی دوست مجھے کس قدر بناتے ہیں
تیرے خیال کے دیوارودر بناتے ہیں جمیل الدین عالی
مہمان شاعر: جمیل الدین عالی
تیرے خیال کے دیوار و در بناتے ہیںہم اپنے گھر میں بھی تیرا ہی گھر بناتے ہیں
بجائے یوم ملامت رکھا ہے جشن مرامرے بھی دوست مجھے کس قدر بناتے ہیں
کب تم بھٹکے کیوں تم بھٹکے کس کس کو سمجھاؤ گےاتنی دور تو آ پہنچے ہو اور کہاں تک جاؤ گے
اس چالیس برس میں تم نے کتنے دوست بنائے ہیںاب جو عمر بچی ہے اس میں کتنے دوست بناؤ گے