کوئی تو شکل محبت میں سازگار آئے
کلام: جمیل الدین عالی
کوئی تو شکل محبت میں سازگار آئےہنسی نہیں ہے تو رونے سے ہی قرار آئے
ہے ایک نعمت عظمیٰ غم محبت بھیمگر یہ شرط کہ انساں کو سازگار آئے
تیرے خیال کے دیوارودر بناتے ہیں جمیل الدین عالی
مہمان شاعر: جمیل الدین عالی
کوئی تو شکل محبت میں سازگار آئےہنسی نہیں ہے تو رونے سے ہی قرار آئے
ہے ایک نعمت عظمیٰ غم محبت بھیمگر یہ شرط کہ انساں کو سازگار آئے
تمہیں مجھ میں کیا نظر آ گیا جو مرا یہ روپ بنا گئےوہ تمام لوگ جو عشق تھے وہ مرے وجود میں آ گئے
نہ ترے سوا کوئی لکھ سکے نہ مرے سوا کوئی پڑھ سکےیہ حروف بے ورق و سبق ہمیں کیا زبان سکھا گئے