6 اشعار

آج مدت میں وہ یاد آئے ہیں

Aaj muddat mein woh yaad aaye hain

آج مدت میں وہ یاد آئے ہیں

«آج مدت میں وہ یاد آئے ہیں» جان نثار اختر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 31 سیکنڈ ہے۔

آج مدت میں وہ یاد آئے ہیںدر و دیوار پہ کچھ سائے ہیں

آبگینوں سے نہ ٹکرا پائےکوہساروں سے تو ٹکرائے ہیں

زندگی تیرے حوادث ہم کوکچھ نہ کچھ راہ پہ لے آئے ہیں

سنگ ریزوں سے خزف پاروں سےکتنے ہیرے کبھی چن لائے ہیں

اتنے مایوس تو حالات نہیںلوگ کس واسطے گھبرائے ہیں

ان کی جانب نہ کسی نے دیکھاجو ہمیں دیکھ کے شرمائے ہیں

— جان نثار اختر