7 اشعار

آنکھیں چرا کے ہم سے بہار آئے یہ نہیں

Aankhein chura ke hum se bahaar aaye yeh nahin

آنکھیں چرا کے ہم سے بہار آئے یہ نہیں

«آنکھیں چرا کے ہم سے بہار آئے یہ نہیں» جان نثار اختر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 2 سیکنڈ ہے۔

آنکھیں چرا کے ہم سے بہار آئے یہ نہیںحصے میں اپنے صرف غبار آئے یہ نہیں

کوئے غم حیات میں سب عمر کاٹ دیتھوڑا سا وقت واں بھی گزار آئے یہ نہیں

خود عشق قرب جسم بھی ہے قرب‌‌ جاں کے ساتھہم دور ہی سے ان کو پکار آئے یہ نہیں

آنکھوں میں دل کھلے ہوں تو موسم کی قید کیافصل بہار ہی میں بہار آئے یہ نہیں

اب کیا کریں کہ حسن جہاں ہے عزیز ہےتیرے سوا کسی پہ نہ پیار آئے یہ نہیں

وعدوں کو خون دل سے لکھو تب تو بات ہےکاغذ پہ قسمتوں کو سنوار آئے یہ نہیں

کچھ روز اور کل کی مروت میں کاٹ لیںدل کو یقین وعدۂ یار آئے یہ نہیں

— جان نثار اختر