8 اشعار

اچھا ہے ان سے کوئی تقاضا کیا نہ جائے

Achha hai un se koi taqaza kiya na jaaye

اچھا ہے ان سے کوئی تقاضا کیا نہ جائے

«اچھا ہے ان سے کوئی تقاضا کیا نہ جائے» جان نثار اختر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 3 سیکنڈ ہے۔

اچھا ہے ان سے کوئی تقاضا کیا نہ جائےاپنی نظر میں آپ کو رسوا کیا نہ جائے

ہم ہیں ترا خیال ہے تیرا جمال ہےاک پل بھی اپنے آپ کو تنہا کیا نہ جائے

اٹھنے کو اٹھ تو جائیں تری انجمن سے ہمپر تیری انجمن کو بھی سونا کیا نہ جائے

ان کی روش جدا ہے ہماری روش جداہم سے تو بات بات پہ جھگڑا کیا نہ جائے

ہر چند اعتبار میں دھوکے بھی ہیں مگریہ تو نہیں کسی پہ بھروسا کیا نہ جائے

لہجہ بنا کے بات کریں ان کے سامنےہم سے تو اس طرح کا تماشا کیا نہ جائے

انعام ہو خطاب ہو ویسے ملے کہاںجب تک سفارشوں کو اکٹھا کیا نہ جائے

اس وقت ہم سے پوچھ نہ غم روزگار کےہم سے ہر ایک گھونٹ کو کڑوا کیا نہ جائے

— جان نثار اختر