6 اشعار

اشعار مرے یوں تو زمانے کے لیے ہیں

Ash'aar mere yoon to zamane ke liye hain

اشعار مرے یوں تو زمانے کے لیے ہیں

«اشعار مرے یوں تو زمانے کے لیے ہیں» جان نثار اختر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 47 سیکنڈ ہے۔

اشعار مرے یوں تو زمانے کے لیے ہیںکچھ شعر فقط ان کو سنانے کے لیے ہیں

اب یہ بھی نہیں ٹھیک کہ ہر درد مٹا دیںکچھ درد کلیجے سے لگانے کے لیے ہیں

سوچو تو بڑی چیز ہے تہذیب بدن کیورنہ یہ فقط آگ بجھانے کے لیے ہیں

آنکھوں میں جو بھر لو گے تو کانٹوں سے چبھیں گےیہ خواب تو پلکوں پہ سجانے کے لیے ہیں

دیکھوں ترے ہاتھوں کو تو لگتا ہے ترے ہاتھمندر میں فقط دیپ جلانے کے لیے ہیں

یہ علم کا سودا یہ رسالے یہ کتابیںاک شخص کی یادوں کو بھلانے کے لیے ہیں

— جان نثار اختر