5 اشعار

دیدہ و دل میں کوئی حسن بکھرتا ہی رہا

Deeda-o-dil mein koi husn bikharata hi raha

دیدہ و دل میں کوئی حسن بکھرتا ہی رہا

«دیدہ و دل میں کوئی حسن بکھرتا ہی رہا» جان نثار اختر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 38 سیکنڈ ہے۔

دیدہ و دل میں کوئی حسن بکھرتا ہی رہالاکھ پردوں میں چھپا کوئی سنورتا ہی رہا

روشنی کم نہ ہوئی وقت کے طوفانوں میںدل کے دریا میں کوئی چاند اترتا ہی رہا

راستے بھر کوئی آہٹ تھی کہ آتی ہی رہیکوئی سایہ مرے بازو سے گزرتا ہی رہا

مٹ گیا پر تری بانہوں نے سمیٹا نہ مجھےشہر در شہر میں گلیوں میں بکھرتا ہی رہا

لمحہ لمحہ رہے آنکھوں میں اندھیرے لیکنکوئی سورج مرے سینے میں ابھرتا ہی رہا

— جان نثار اختر