10 اشعار

ہر ایک روح میں اک غم چھپا لگے ہے مجھے

Har ek rooh mein ik gham chhupa lage hai mujhe

ہر ایک روح میں اک غم چھپا لگے ہے مجھے

«ہر ایک روح میں اک غم چھپا لگے ہے مجھے» جان نثار اختر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 4 سیکنڈ ہے۔

ہر ایک روح میں اک غم چھپا لگے ہے مجھےیہ زندگی تو کوئی بد دعا لگے ہے مجھے

پسند خاطر اہل وفا ہے مدت سےیہ دل کا داغ جو خود بھی بھلا لگے ہے مجھے

جو آنسوؤں میں کبھی رات بھیگ جاتی ہےبہت قریب وہ آواز پا لگے ہے مجھے

میں سو بھی جاؤں تو کیا میری بند آنکھوں میںتمام رات کوئی جھانکتا لگے ہے مجھے

میں جب بھی اس کے خیالوں میں کھو سا جاتا ہوںوہ خود بھی بات کرے تو برا لگے ہے مجھے

میں سوچتا تھا کہ لوٹوں گا اجنبی کی طرحیہ میرا گاؤں تو پہچانتا لگے ہے مجھے

نہ جانے وقت کی رفتار کیا دکھاتی ہےکبھی کبھی تو بڑا خوف سا لگے ہے مجھے

بکھر گیا ہے کچھ اس طرح آدمی کا وجودہر ایک فرد کوئی سانحہ لگے ہے مجھے

اب ایک آدھ قدم کا حساب کیا رکھئےابھی تلک تو وہی فاصلہ لگے ہے مجھے

حکایت غم دل کچھ کشش تو رکھتی ہےزمانہ غور سے سنتا ہوا لگے ہے مجھے

— جان نثار اختر