7 اشعار

ہر ایک شخص پریشان و در بدر سا لگے

Har ek shakhs pareshan-o-darbadar sa lage

ہر ایک شخص پریشان و در بدر سا لگے

«ہر ایک شخص پریشان و در بدر سا لگے» جان نثار اختر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 57 سیکنڈ ہے۔

ہر ایک شخص پریشان و در بدر سا لگےیہ شہر مجھ کو تو یارو کوئی بھنور سا لگے

اب اس کے طرز تجاہل کو کیا کہے کوئیوہ بے خبر تو نہیں پھر بھی بے خبر سا لگے

ہر ایک غم کو خوشی کی طرح برتنا ہےیہ دور وہ ہے کہ جینا بھی اک ہنر سا لگے

نشاط صحبت رنداں بہت غنیمت ہےکہ لمحہ لمحہ پر آشوب و پر خطر سا لگے

کسے خبر ہے کہ دنیا کا حشر کیا ہوگاکبھی کبھی تو مجھے آدمی سے ڈر سا لگے

وہ تند وقت کی رو ہے کہ پاؤں ٹک نہ سکیںہر آدمی کوئی اکھڑا ہوا شجر سا لگے

جہان نو کے مکمل سنگار کی خاطرصدی صدی کا زمانہ بھی مختصر سا لگے

— جان نثار اختر