11 اشعار

ہم سے بھاگا نہ کرو دور غزالوں کی طرح

Hum se bhaaga na karo door ghazalon ki tarah

ہم سے بھاگا نہ کرو دور غزالوں کی طرح

«ہم سے بھاگا نہ کرو دور غزالوں کی طرح» جان نثار اختر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 17 سیکنڈ ہے۔

ہم سے بھاگا نہ کرو دور غزالوں کی طرحہم نے چاہا ہے تمہیں چاہنے والوں کی طرح

خودبخود نیند سی آنکھوں میں گھلی جاتی ہےمہکی مہکی ہے شب غم ترے بالوں کی طرح

تیرے بن رات کے ہاتھوں پہ یہ تاروں کے ایاغخوبصورت ہیں مگر زہر کے پیالوں کی طرح

اور کیا اس سے زیادہ کوئی نرمی برتوںدل کے زخموں کو چھوا ہے ترے گالوں کی طرح

گنگناتے ہوئے اور آ کبھی ان سینوں میںتیری خاطر جو مہکتے ہیں شوالوں کی طرح

تیری زلفیں تری آنکھیں ترے ابرو ترے لباب بھی مشہور ہیں دنیا میں مثالوں کی طرح

ہم سے مایوس نہ ہو اے شب دوراں کہ ابھیدل میں کچھ درد چمکتے ہیں اجالوں کی طرح

مجھ سے نظریں تو ملاؤ کہ ہزاروں چہرےمیری آنکھوں میں سلگتے ہیں سوالوں کی طرح

اور تو مجھ کو ملا کیا مری محنت کا صلہچند سکے ہیں مرے ہاتھ میں چھالوں کی طرح

جستجو نے کسی منزل پہ ٹھہرنے نہ دیاہم بھٹکتے رہے آوارہ خیالوں کی طرح

زندگی جس کو ترا پیار ملا وہ جانےہم تو ناکام رہے چاہنے والوں کی طرح

— جان نثار اختر